حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، طوفان الاقصیٰ کو تین سال مکمل ہو چکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023ء کو فلسطینی مزاحمت کی جانب سے شروع کی گئی اس کارروائی کے بعد غزہ میں اسرائیل کی جانب سے ایسی تباہ کن جنگ مسلط کی گئی جس میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس جنگ کے نتیجے میں جہاں غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہوا، وہیں فلسطین کا مسئلہ ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا اور اسرائیل کے بارے میں قائم کئی پرانے تصورات بھی بری طرح متاثر ہوئے۔
تین سال قبل طوفان الاقصیٰ کے آغاز نے مغربی ایشیا کی سیاست اور حالات میں ایک اہم موڑ پیدا کیا۔ حماس کے مجاہدین نے غزہ اور مقبوضہ علاقوں کے درمیان قائم حفاظتی رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی ٹھکانوں اور صہیونی بستیوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی ذرائع نے بھی اس کارروائی کو اپنی تاریخ کی بڑی اور غیر معمولی ناکامیوں میں شمار کیا۔
حماس نے طوفان الاقصیٰ کے مقاصد میں اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت، فلسطینی عوام کا دفاع اور اسلامی مقدسات کا تحفظ بیان کیا تھا۔ اس کارروائی کو محض ایک فوجی واقعہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں فلسطینی عوام کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری قبضے، تشدد اور بنیادی حقوق کی پامالی کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
اسرائیل کی ناقابلِ شکست ہونے کا تصور خاک میں مل گیا
طوفان الاقصیٰ کا ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ اسرائیل کی مضبوط انٹیلی جنس اور فوجی طاقت کے بارے میں قائم تصور کو شدید دھچکا پہنچا۔ اس کارروائی نے ظاہر کیا کہ جدید ترین فوجی اور دفاعی نظام کے باوجود اسرائیل کو اچانک اور غیر متوقع چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم اس واقعے کا اثر صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں فلسطین کے بارے میں عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ غزہ میں اسرائیلی حملوں، عام شہریوں کے قتل عام اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی نے انسانی حقوق اور انصاف کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔
کئی برسوں سے فلسطین کے مسئلے کو محدود دائرے میں پیش کیا جاتا رہا اور عالمی سطح پر اسے پسِ پشت ڈالنے کی کوششیں بھی ہوتی رہیں، لیکن طوفان الاقصیٰ کے بعد صورت حال بدل گئی۔ فلسطین ایک بار پھر عالمی سیاست، میڈیا اور عوامی گفتگو کا اہم ترین موضوع بن گیا۔
امریکی حمایت بھی سوالات کی زد میں
طوفان الاقصیٰ کے بعد اسرائیل کو حاصل امریکی حمایت بھی دنیا بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنی۔ خاص طور پر غزہ میں عام شہریوں کے وسیع پیمانے پر قتل عام اور تباہی کے بعد امریکہ سمیت مغربی ممالک میں بھی فلسطین کے حق میں آوازیں بلند ہوئیں۔
یہ صورت حال اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل کے بارے میں وہ یک طرفہ بیانیہ، جسے طویل عرصے تک عالمی سطح پر مضبوط بنانے کی کوشش کی جاتی رہی، اب پہلے جیسا اثر نہیں رکھتا۔ آج دنیا کے مختلف حصوں میں عوام اسرائیلی کارروائیوں اور امریکہ کی مسلسل حمایت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں طوفان الاقصیٰ کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے ایک اہم موڑ کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ کارروائی براہِ راست اسرائیل کے خلاف تھی، لیکن اس کے اثرات خطے میں امریکی پالیسی اور اس کے کردار پر بھی مرتب ہوئے۔
فلسطین کا مسئلہ پھر عالمی ترجیح بن گیا
طوفان الاقصیٰ کے بعد سب سے نمایاں تبدیلی عالمی رائے عامہ میں دکھائی دی۔ مختلف ملکوں اور معاشروں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے غزہ کے مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کی۔ اس بیداری نے ثابت کیا کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف انسانی ضمیر کو ہمیشہ خاموش نہیں رکھا جا سکتا۔
آج تین سال بعد فلسطین کا مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ غزہ میں ہونے والی تباہی نے دنیا کے سامنے یہ سوال بھی رکھا ہے کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے دعوے اس وقت کہاں کھڑے ہوتے ہیں جب متاثرین فلسطینی ہوں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طوفان الاقصیٰ کے بعد اسرائیل کے بارے میں قائم ناقابلِ شکست ہونے کا تصور شدید متاثر ہوا ہے۔ اسرائیل کی فوجی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں پر جو غیر معمولی اعتماد کیا جاتا تھا، اس میں واضح کمی آئی ہے اور فلسطینی مزاحمت نے طویل جنگ کے باوجود اپنی موجودگی اور اثر کو برقرار رکھا ہے۔
دشمن کی غلط فہمی کا نتیجہ
طوفان الاقصیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ طاقت اور جدید ہتھیار کسی قوم کو ہمیشہ کے لیے سیاسی اور اخلاقی کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اسرائیل نے غزہ میں شدید فوجی کارروائی کی، لیکن اس کے باوجود فلسطین کا مسئلہ ختم نہیں ہوا بلکہ عالمی سطح پر مزید نمایاں ہو گیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دشمنانِ انسانیت کی غلط فہمی سامنے آتی ہے۔ فلسطینی عوام کو دبانے اور ان کے مسئلے کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوششیں اس کے برعکس فلسطین کو عالمی ضمیر کا ایک اہم سوال بنا چکی ہیں۔
تین سال بعد طوفان الاقصیٰ کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس واقعے نے خطے کی سیاسی اور فوجی صورت حال ہی نہیں بدلی بلکہ عالمی رائے عامہ کو بھی متاثر کیا۔ فلسطین آج بھی زندہ مسئلہ ہے اور غزہ کے عوام کی استقامت نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ ظلم، قبضے اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت کو محض طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اگرچہ غزہ کے عوام آج بھی شدید مشکلات اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کی استقامت اور مزاحمت نے فلسطین کے مسئلے کو دوبارہ عالمی ترجیح بنا دیا ہے۔ یہی طوفان الاقصیٰ کا ایک اہم تاریخی اثر ہے کہ جس مسئلے کو دنیا سے بھلا دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، وہ آج پہلے سے زیادہ مضبوط انداز میں دںیا کے سامنے موجود ہے۔










آپ کا تبصرہ